نئی دہلی،یکم مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس) کانگریس کی سابق کارپوریشن کونسلر عشرت جہاں کو دہلی پولیس نے فساد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔عشرت کو 14 دنوں کے لئے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔
عشرت جہاں گزشتہ تقریباً 50 دنوں سے دہلی کے کھریجی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کر رہی تھیں۔گزشتہ اتوار کو کھریجی روڈ جام کرنے میں بھی عشرت جہاں کا نام آیا تھا۔
غور طلب ہے کہ شہریت ترمیم قانون کو لے کر تشدد بھڑکنے کے بعد ہفتہ کو شمال مشرقی دہلی میں زیادہ تر جگہوں پر ماحول پرامن ہے۔تاہم جن جگہوں پر تشدد ہوا ہے ان کے ارد گرد کے علاقوں میں زیادہ لوگوں کے جمع ہونے یا پھر بڑے اجتماع پر اب بھی پابندی ہے۔
شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد میں اب تک 42 افراد کی موت ہو چکی ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔وزارت داخلہ نے بتایا کہ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن نے عوامی مقامات میں سے زیادہ تر ملبہ ہٹا دیا ہے۔تشدد میں 300 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔
پولیس نے اب تک 123 ایف آئی آر درج کی ہیں اور 630 افراد کو حراست میں لیا۔دہلی پولیس نے تشدد کے مقدمات کی تحقیقات کے لئے دو ایس آئی ٹی بنائی ہے۔24؍ فروری کے بعد سے شمال مشرق دہلی کے تشدد سے متاثرہ علاقوں میں سات ہزار سے زیادہ سیکورٹی فورسز کو تعینات کی گئی ہے۔